Posts

اک اور کلی مرجھا گئی میرے گلشن کی باغباں کہاں۔۔؟؟

Image
رات 12 بجے کے آس پاس کا وقت تھا ، میں حسبِ معمول مطالعہ وغیرہ کر کے سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ  مجھے وٹس ایپ  پر ایک پیغام موصول ہوا، وہ پیغام ایک معروف سوشل میڈیا ٹیم کے ہیڈ پرسن تھا۔ پیغام یہ تھا پنجاب کے ضلع قصور کی ایک ننھی کلی زینب امین کو پہلے اغوا کیا گیا پھر ذیادتی کا نشانہ بنا کر  اس قتل کر دیا گیا ہے۔قتل کرنے کے بعد  وہ درندے اس پھول سی بچی کو  کچرے ڈھیر پر پھینک گئے ہیں اور آج پانچ دنوں کے بعد اس کی لاش ملی ہے،ساتھ ہی اُس سات سالہ معصوم زینب کی تصاویر اور ہیش ٹیگ تھا۔ اور دل کو چیر جانے والے بات یہ تھی کہ زینب کے والدین  عمرہ کی غرض سے سعودیہ ہیں۔اس خبر کا ملنا تھا کہ میری آنکھوں سے نیند تو جیسے غائب ہو گئی اور عجیب اضطراب کی کیفیت پیدا ہو گئی۔اس خبر نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔ بہر کیف دیکھتے ہی دیکھتے پورے سوشل میڈیا پر یہ بات ہر سو پھیل گئی ۔ ہر شخص یہی بات ک رہا تھا۔خیر جیسے تیسے رات گزری ، اگلا دن آیا زینب کے والدین بھی واپس آگئے۔ ہر طرف   مظاہرے شروع ہو گئے مختلف جماعتیں،طلبا تنظمیں میدان میں آ گئیں۔اس دلخراش واقعہ ک...

انفارمیشن وارفئیر اور ہمارے نوجوان

Image
ایک وقت تھا    کہ  لوگ فکری  اغواء  کے  لفظ سے  ناآشنا تھے مگر اب یہ اصطلاح عام ہو چکی  ہے کیونکہ  اِکیسویں صدی میں جہاں  دنیا میں  بہت بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں وہاں جنگی حکمتِ عملیاں بھی  حیران کن تیزی کے ساتھ تبدیل ہوئیں۔ ایک  وقت ایسا بھی  تھا  جب ایک ملک دوسرے ملک پر حملہ کرتا ، مَردوں کو قتل کر دِیا جاتا  عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جاتا۔مگر اب   قو موں کے اَذہان و قلوب پر فتح حاصل کرنے کی جنگ ہے، اب نظریات کے غلبے کی جنگ ہے۔وہ دور گزر گیا جب  صرف مسلح افراد ہی میدانِ جنگ میں اترا کرتے اور اپنی قوم قبیلے کے لیے لڑتے تھے  اب وہ زمانہ ہے کہ قوم کا  ہر اِک فرد حالتِ جنگ میں ہے اور  دشمن کا ہدف بھی۔ہم سب گزشتہ ایک لمبے عرصے سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ دنیا اس وقت "میڈیا  اینڈ انفارمیشن وار" کے  دور میں داخل ہو چکی ہے۔دنیا کے بڑے بڑے ممالک  اس جنگ میں بے بہا وسائل جھونک رہے ہیں اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ یہ جنگ لڑ  بھی رہے ہیں۔برطانیہ جس کو ...

اندھا بھینسا اور بیوقوف امریکہ

Image
امریکی صدر کے بیانات سے   اس بات کی جھلک نظر آتی ہے کہ امریکہ کی حالت اس وقت ایسے بھینسے کی مانند ہے جو پہلے تو اپنی طاقت کے بل بوتے دندناتا   پھرتا رہا ہو مگر بعد میں اس پر قابو   پا   لیا گیا ہو۔ اور اب وہ نیم   پاگل کی سی حالت میں جو بھی حرکت کرتا ہے وہ اس کے خلاف ہی جاتی ہے۔ وہ جب بھی زور آزمائی کرنے کی کوشش   کرتا ہے، منہ کی کھانی پڑتی ہے یا پشت پر ڈنڈو ں   کی برسات ہو جاتی ہے۔امریکی صدر نے ایک ٹویٹ کی جس میں وہ کہتے ہیں کہ " امریکہ نے   بیوقوف بن کر    گزشتہ پندرہ سالوں میں پاکستان کو 33 بلین ڈالرز سے زائد   کی امداد دی ہے، لیکن پاکستان نے   صرف جھوٹ اور دھوکہ دیا ہے "۔امریکی   صدر کے اس ٹوئیٹر پیغام کے بعد میڈیا پر یہ تاثر دیا جانے لگا کہ   اس پہلے امریکہ کی جانب سے ایسا کوئی ردِّ عمل یا ایسی کوئی پالیسی نہیں اپنائی گئی۔ یہاں ہمیں ایک بات واضح کر لینی چاہیئے کہ امریکہ پالیسی وہی بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے جس انداز میں بات کی ہے وہ "ڈپلومیٹک" نہیں ہے۔ وگرنہ   امریکہ پالیسی یہی امریکہ آپ کو ...

تیسری عالمی جنگ کا نقارہ اور ہماری تیاری

Image
امتِ مسلمہ اس وقت بہت سے مسائل اور سازشوں کے بھنور میں ہے۔ کہیں امت مسلک کی بنیاد پر لڑ رہی، کہیں کفار کے ہاتھ پس رہی ہے ، کہیں نظریاتی یلغار کی زد میں ہےاور کہیں مفلسی کا شکار ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت جسے بہر حال ہمیں تسلیم    کرنا ہو گا۔کیونکہ جب تک ہم اپنے بنیادی مسائل کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہونگے   ہم اپنی بڑھتی مشکلات پر قابو بھی نہیں پا سکیں گے۔ اس لیے ہمیں مایوسی سے بچتے ہوئے اپنی مدد آپ کے   تحت ہمت و حوصلے کے ساتھ اپنے مسائل کو سمجھنا ہو گا تا کہ ہم ان کا کچھ حل نکال سکیں۔ عالمی سیاست کے حوالے سے گزشتہ ماہ کا سب سے بڑا مسئلہ یروشلم کا ہے۔امریکی صدر احمق ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے یروشلم کو   اسرائیل کا  دارلحکومت  حکومت تسلیم کیا اور امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا حکم دیا۔جس کے بعد انہیں مغربی ممالک کی جانب سے بھی شدید مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ٹرمپ کے اس  بیان کے مشرقِ وسطیٗ  میں بھی فوراً ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب  شدید ردِ عمل سامنے آیا اور انہوں ...

شکست خوردہ امریکہ،یروشلم اور ہماری خارجہ پالیسی

نائن الیون کے بعد  عالمی منظرنامے پر  بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور  امریکہ کے تعلقات  بڑی تیزی کے ساتھ مضبوط ہوئے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جس برق رفتاری کے ساتھ یہ تعلقات مضبوط ہوئے تھے اسی رفتار کے ساتھ تنزلی اور سرد مہری  کا شکار بھی ہوئے۔یوں تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان دڑاڑ اسی روز آ گئی تھی جب 2011 میں جب سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ کی یہ جانب سے یہ بیان جاری کیا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد ہم اپنی عالمی ترجیحات از سرِ نو ترتیب دیں گے۔لیکن اس کی بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان پر دھونس جمانے کی کوشش کی ہے اورصرف پاکستان سے ہی فائدہ چاہا ہے۔یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا ہمارے تعلقات کافی حد تک یک طرفہ ہی رہے ہیں۔ آج تک تو افغانستان کے حوالے امریکہ کی پالیسی اور حکمتِ عملی پسِ پردہ ہی رہی ہے  لیکن  ٹرمپ حکومت نے یہ  روایت بھی بدل ڈالی ۔ڈونلڈ  ٹرمپ اور باقی وزراء کے حالیہ بیانات نے سب کے کان کھرے کر دیے ہیں۔کیونکہ اگر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کا باغور جائز...

Human Rights Day and Muslim Ummah

Image
Today is 10th of December and it is International Human Rights Day. But now it is Question mark for Muslim Ummah that how we can celebrate this day. When our Muslim brothers and sisters are being treated as a animals. They are being killed in the entire world before the eyes of this UN who is going celebrate this day. My Muslim brothers and sister killed in Kashmir, Palestine, Gaza and many other names by the Hindu Zionists and Crusades. Then How I can celebrate International Human rights day. We should stop for a while to think, to think about that what we have to do? Today Kuffars have challenged the whole Muslim Ummah.we should come back to the Qura'an and Hadith and be sincere with our deen and land, land of Islam. We should not believe in these institutes of Kuffar they have made these just for their own benefits to hide the black deeds and crimes. Now all the rulers beware and wake up,,,but its sad that they still cool as cucumber.

شاخِ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا نازک ہوگا

Image
ہمارے نوجوان (بالخصوص طلبا) شروع دن سے ہی تمام باطل قوتوں کے بڑوں کا آسان ہدف رہے ہیں ۔ اس مد میں دشمنان اسلام و پاکستان کی تگ و دو تا حال جاری ہے بلکہ گزشتہ ایک عرصے سے اس ناپاک کاوش میں چند اصلاحات بھی کی گئیں  ہیں اور دوبارہ ایک منظم انداز سے کام شروع کیا گیا ہے۔ آخر ہمارے نوجوان دشمن کے تیروں کا ہدف کیوں نہ ہوں؟ان نوجوانوں نے ہی تو آگے چل کر ملک و ملت کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ نوجوانان ملت ہی ملت کا مستقبل ہوا کرتے ہیں ۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ جس قوم نے اپنے مستقبل کے متعلق ذمہ دارانہ رویے کا احساس  کرتے ہوئے فکر مندی کے ساتھ اپنے نوجوانوں کی تربیت کی ، ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیا اور جسمانی طور پر مضبوطی کے ساتھ ساتھ ان کی ذہن سازی کرتے ہوئے ان کو نظریاتی اعتبار سے بھی مستحکم کیا ، ان کی تاریخ تابناک رہی ہے۔ مگر دوسری جانب انسانی تاریخ میں کتنے ہی ایسے واقعات ہیں کہ جن قوموں نے اپنے نوجوانوں کی تربیت کے متعلق غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا، تو آج ان کے نام عزت و عظمت کے ساتھ کوئی نہیں لیتا۔ناکامی کے ساتھ ساتھ ذلت اور رسوائی بھی ان کا مقدر بنی۔ وطن ع...