Posts

تیسری عالمی جنگ کا نقارہ اور ہماری تیاری

Image
امتِ مسلمہ اس وقت بہت سے مسائل اور سازشوں کے بھنور میں ہے۔ کہیں امت مسلک کی بنیاد پر لڑ رہی، کہیں کفار کے ہاتھ پس رہی ہے ، کہیں نظریاتی یلغار کی زد میں ہےاور کہیں مفلسی کا شکار ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت جسے بہر حال ہمیں تسلیم    کرنا ہو گا۔کیونکہ جب تک ہم اپنے بنیادی مسائل کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہونگے   ہم اپنی بڑھتی مشکلات پر قابو بھی نہیں پا سکیں گے۔ اس لیے ہمیں مایوسی سے بچتے ہوئے اپنی مدد آپ کے   تحت ہمت و حوصلے کے ساتھ اپنے مسائل کو سمجھنا ہو گا تا کہ ہم ان کا کچھ حل نکال سکیں۔ عالمی سیاست کے حوالے سے گزشتہ ماہ کا سب سے بڑا مسئلہ یروشلم کا ہے۔امریکی صدر احمق ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے یروشلم کو   اسرائیل کا  دارلحکومت  حکومت تسلیم کیا اور امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا حکم دیا۔جس کے بعد انہیں مغربی ممالک کی جانب سے بھی شدید مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ٹرمپ کے اس  بیان کے مشرقِ وسطیٗ  میں بھی فوراً ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب  شدید ردِ عمل سامنے آیا اور انہوں ...

شکست خوردہ امریکہ،یروشلم اور ہماری خارجہ پالیسی

نائن الیون کے بعد  عالمی منظرنامے پر  بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور  امریکہ کے تعلقات  بڑی تیزی کے ساتھ مضبوط ہوئے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جس برق رفتاری کے ساتھ یہ تعلقات مضبوط ہوئے تھے اسی رفتار کے ساتھ تنزلی اور سرد مہری  کا شکار بھی ہوئے۔یوں تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان دڑاڑ اسی روز آ گئی تھی جب 2011 میں جب سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ کی یہ جانب سے یہ بیان جاری کیا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد ہم اپنی عالمی ترجیحات از سرِ نو ترتیب دیں گے۔لیکن اس کی بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان پر دھونس جمانے کی کوشش کی ہے اورصرف پاکستان سے ہی فائدہ چاہا ہے۔یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا ہمارے تعلقات کافی حد تک یک طرفہ ہی رہے ہیں۔ آج تک تو افغانستان کے حوالے امریکہ کی پالیسی اور حکمتِ عملی پسِ پردہ ہی رہی ہے  لیکن  ٹرمپ حکومت نے یہ  روایت بھی بدل ڈالی ۔ڈونلڈ  ٹرمپ اور باقی وزراء کے حالیہ بیانات نے سب کے کان کھرے کر دیے ہیں۔کیونکہ اگر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کا باغور جائز...

Human Rights Day and Muslim Ummah

Image
Today is 10th of December and it is International Human Rights Day. But now it is Question mark for Muslim Ummah that how we can celebrate this day. When our Muslim brothers and sisters are being treated as a animals. They are being killed in the entire world before the eyes of this UN who is going celebrate this day. My Muslim brothers and sister killed in Kashmir, Palestine, Gaza and many other names by the Hindu Zionists and Crusades. Then How I can celebrate International Human rights day. We should stop for a while to think, to think about that what we have to do? Today Kuffars have challenged the whole Muslim Ummah.we should come back to the Qura'an and Hadith and be sincere with our deen and land, land of Islam. We should not believe in these institutes of Kuffar they have made these just for their own benefits to hide the black deeds and crimes. Now all the rulers beware and wake up,,,but its sad that they still cool as cucumber.

شاخِ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا نازک ہوگا

Image
ہمارے نوجوان (بالخصوص طلبا) شروع دن سے ہی تمام باطل قوتوں کے بڑوں کا آسان ہدف رہے ہیں ۔ اس مد میں دشمنان اسلام و پاکستان کی تگ و دو تا حال جاری ہے بلکہ گزشتہ ایک عرصے سے اس ناپاک کاوش میں چند اصلاحات بھی کی گئیں  ہیں اور دوبارہ ایک منظم انداز سے کام شروع کیا گیا ہے۔ آخر ہمارے نوجوان دشمن کے تیروں کا ہدف کیوں نہ ہوں؟ان نوجوانوں نے ہی تو آگے چل کر ملک و ملت کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ نوجوانان ملت ہی ملت کا مستقبل ہوا کرتے ہیں ۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ جس قوم نے اپنے مستقبل کے متعلق ذمہ دارانہ رویے کا احساس  کرتے ہوئے فکر مندی کے ساتھ اپنے نوجوانوں کی تربیت کی ، ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیا اور جسمانی طور پر مضبوطی کے ساتھ ساتھ ان کی ذہن سازی کرتے ہوئے ان کو نظریاتی اعتبار سے بھی مستحکم کیا ، ان کی تاریخ تابناک رہی ہے۔ مگر دوسری جانب انسانی تاریخ میں کتنے ہی ایسے واقعات ہیں کہ جن قوموں نے اپنے نوجوانوں کی تربیت کے متعلق غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا، تو آج ان کے نام عزت و عظمت کے ساتھ کوئی نہیں لیتا۔ناکامی کے ساتھ ساتھ ذلت اور رسوائی بھی ان کا مقدر بنی۔ وطن ع...

کیا آپ صاف گھر میں نہیں رہتے؟

Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 اگست کو ایک پریس کانفرنس کی جس میں پاکستان کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کا اعلان کیا اور  پاکستان سے "ڈو مور" کا مطالبہ کیا۔ جب امریکی صدر سے کی جانب سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ ابھی آپ ڈو مور کریں تو یقینی طورپر افواجِ پاکستان اورقوم جنہوں دہشت گردی کے خلاف اور خطے میں امن کی فضا قائم کرنے کے لیے قربانیاں دیں ہیں، کو ٹھیس پہنچی ہو گی۔جونہی یہ بات منظرِ عام پر آئی ملک کی چھوٹی ،بڑی،مذہبی و سیاسی جماعتوں نے اس پر خوب تنقید کی احتجاج و مظاہرے بھی کیے مگر حکام کی طرف سے کوئی خاص ردِّ عمل سامنے آیا۔6ستمبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاید باجوہ نے اپنی تقریر کے واضح طور پر یہ بات کہی کہ "اگر پاکستان نے اس جنگ میں کافی نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی ملک نے کچھ نہیں کیا" اور عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ اب آپ ڈو مور کریں۔سلام ہے جنرل باجوہ کی عظمت کو کہ جنہوں نے مضبوط پیغام دنیا کو دیا کہ ہم نے بہت کیا ہے اب آپ کی باری ہے۔لیکن اس کے بعد وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف نے  امریکی صدر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یہ بیان دیا کہ "ہمیں اپنے گھر کی صفائی...

تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی

بھارت کادعویٰ ہے کہ وہ دنیاکی دوسری بڑی جمہوریت ہے جس کی آبادی 1.34 بلین ہے۔ جمہوریت کے گن گانے والوں کادعویٰ ہے کہ جمہوریت ہی ایک ایسا نظام ہے کہ عامۃ الناس کوسوچ و فکرکی اور سیاسی وسماجی سرگرمیوں کی مکمل آزادی حاصل ہے اور بھارت بھی دن رات یہی راگ الاپتارہتاہے کہ بھارت ایک ایساملک ہے جہاں عوام کوہرقسم کی"جمہوری"آزادی میسرہے۔ یہاں کے لوگ اپنی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں مکمل طور پرآزاد ہیں لیکن اگر اس دعوی کو مدنظررکھتے ہوئے بھارت کی درونِ خانہ سیاست اور معاشرت کاجائزہ لیں تو معاملہ بالکل اس کے برعکس نظرآتاہے۔ہندوازم بنیادی طورپر ایک مغرور اورعداوتوں اور نفرتوں سے بھرپور ایک سوچ اور نظریے کانام ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ ہندوستان میں گہری سماجی تقسیم پر مبنی مختلف قومیں آبادہیں۔ دلت بھی ہندوستان میں بسنے والی اقوام میں سے ایک ہیں ۔ ہندو معاشرے میں دلت قوم سے تعلق رکھنے والے نیچ ذات جبکہ برہمن ہندو ذات کے اعتبار سے اعلیٰ سمجھے جاتے ہیں۔ برہمن ہندو دلتوں کو اس قدر نیچ اور برا تصور کرتے ہیں کہ دلتوں کو چھونا بھی ان کو گراں گزرتا ہے۔برہمنوں کے اس َمتکبرانہ ...

آزادٰ کشمیر سے گریزاں بھارت

Image
اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان کو ہر لحاظ سے کمزور کرنے، عالمی منظرنامے پر پاکستان کے کردار کو متنازع بنانے کے لیے سازشیں ترتیب دینا مودی سرکار کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ بھارتی وزراء اور انڈین میڈیا کے پاکستان مخالف بیانات کا اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو اخذ ہوتا ہے کہ دہلی سرکار کا سب سے بڑا ہدف اور ریشہ دوانیوں کا دور پاکستان کے گرد گھومتا ہے۔حالیہ دنوں میں بھارت کے وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے بیان دیا کہ پاکستان دہشت گردی کوجو پشت فراہم کر رہا ہے وہ صرف بھارت اور عالمی دنیا کے لئے ہی نہیں بلکہ انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ان کے علاوہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی (جن کو دنیا "گجرات کے قصائی"کے نام سے جانتی ہے) اوڑی میں کشمیری مجاہدین کے حملے کےبعد بھارتی عوام سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب ہم پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیں گے۔ جس میں مزید اضافہ سشما سوراج نے کیا کہ اس پر عملدرآمد کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔ اس قسم کے بیانات کا سلسلہ یہاں ہی ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ بھارت کا ہر وزیر اس معاملے میں سبقت لے جانے ک...